اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انقلاب اسلامی کے رہبر معظم امام خامنہ ای نے پیامبر رحمت و عزت و کرامت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی درگاہ قدسی میں مستکبرین اور ان کے کرائے کے کٹھ پتلیوں کی گستاخی کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نسبت استکباری محاذ کی گہری دشمنی اور عداوت کا اظہار قرار دیا اور فرمایا: اس عظیم اہانت کے حوالے سے مغربی سیاستدانوں کا موقف، ایک معاندانہ موقف سے کسی صورت بھی مختلف نہ تھا۔انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے پیر کے روز ادارہ حج کے کارگزاروں سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کے عظیم الشأن پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شان میں ہونے ولای توہین و گستاخی، نیز دوستوں اور حتی دشمنوں کی نظروں میں آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عظمت کی جلوہ گری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اس سال کے حج کو خاص اہمیت کا حامل اور ماضی سے بالکل مختلف قرار دیا اور فرمایا: اس سال حج کے دوران ـ جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے اجتماع کا مرکز ہے ـ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور کے وجود مقدس کی کے واسطے سے امت اسلام کے اتحاد کے اتحاد اور استکباری محاذ سے مسلمانوں کے عمیق غیظ و غضب کا مظاہرہ ہونا چاہئے؛ اور برائت از مشرکین کے حقیقی معنی یہی ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کا خطاب:
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
خداوند متعال کی بارگاہ سے عجز و انکسار کے ساتھ، التجا کرتے ہیں کہ حج گزاروں اور بیت اللہ عزیز کے مہمانوں کا حج، درگاہ خداوندی میں مقبول ہو اور باری تعالی کی رضا و خوشنودی اور اسلامی معاشروں پر اللہ کی برکتوں کے نزول کا سبب ہو ... حج کے تمام کارگزاروں اور کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے لئے اللہ کی بارگاہ سے اجر و ثواب کی درخواست کرتا ہوں۔جناب قاضی عسکر (حج میں ولی فقیہ کے نمائندے) اور ادارہ حج کے سربراہ نے جو نکات بیان کئے ـ جو اقدامات انھوں نے انجام دیئے ہیں اور جو وہ انجام دینا چاہتے ہیں، سب اہم اور ضروری اقدامات ہیں۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ان شاء اللہ ان دردمند اہلکاروں کی جو بھی آرزو ہے وہ پوری توجہ کے ساتھ عملی جامہ پہنے تا کہ ہم حج کو صورت اور معنی (Form and Meaning) اور قالب و محتوا (Format and Content) کے لحاظ سے اس مقصود و مطلوب سے قریب تر کردیں جس کا ہم سے اللہ تعالی نے تقاضا فرمایا ہے؛ تا کہ اس عظیم واجب اور فیصلہ کن فریضے (Determaining Duty) کو ، تمام دوسرے اسلامی فرائض کی نسبت ممتاز خصوصیات کا حامل ہے؛ اور اس کا تعلق امت سے ہے، اس کا تعلقات پوری دنیا سے ہے ـ جس طرح کہ اللہ تعالی نے ارادہ فرمایا ہے اور ہم اور آپ کے لئے چاہا ہے، اسی طرح انجام دیں۔... اس سال کا حج گذشتہ سالوں سے بالکل مختلف ہے، ایک خاص قسم کی حالت ہے اس سال۔ دوستوں اور عقیدتمندوں حتی کہ دشمنوں کی نظروں میں حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمت کا جو مظاہرہ ہوا ہے ـ وہ اس سال کی خصوصیات میں سے ہے۔ یہ فعل جو دشمنوں کے گنہگار ہاتھوں نے امریکہ میں ـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان مقدس میں توہین و گستاخی کے حوالے سے انجام دیا ہے، اس کے دو پہلو ہیں:ایک طرف سے، دشمنوں اور مستکبرین اور ان کے تنخواہ داروں کی طرف سے، پیغمبر رحمت، پیغمبر عزت اور پیغمبر کرامت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ـ جو بنی نوع انسانی کی پوری تاریخ اور پورے عالم وجود میں برترین اور بیش بہاء ترین انسانی صفات کے حامل ہیں ـ کی نسبت، دشمنی اور عداوت کی گہرائی اور شدت کا مظاہرہ ہے اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ کس قدر پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے دشمنی اور بعض رکھتے ہیں۔ ایک طرف سے وہ اس طرح کی اہانتوں اور گستاخیوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور دوسری طرف سے ان کے سیاستدان ایسا موقف اپناتے ہیں جو کسی معاندانہ موقف سے کچھ زیادہ مختلف نہيں ہے۔ یہ اس مسئلے کا ایک پہلو ہے۔ جو بہرحال عالم اسلام کے لئے بہت زيادہ سودمند تھا۔ وہ انسان، گروہ اور مجموعے، جو بہت دیر سے کسی بات کو تسلیم کرتے ہیں، سمجھ گئے کہ آج صف بندی کِس اور کِس کے درمیان ہے؛ حق اور باطل کے درمیان جھگڑوں کا دارومدار کس محور پر ہے؟ اور معلوم ہوا کہ اس کا محور اسلام ہے، ان جھگڑوں کی بنیاد خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ذات اقدس ہے۔ یہ ایک حادثہ تھا جو دشمن نے انجام دیا لیکن اس کا فائدہ دنیائے اسلام کو پہنچا؛ کیونکہ عالم اسلام نے دشمن کو پہچان لیا، دشمنی کے اسباب کو سمجھ لیا، حق و باطل کے درمیان اختلاف کے محور کو پہچان لیا۔ آج جھگڑے یہ ہیں؛ دوسری باتیں ـ جا دنیا کے مستکبرین مسلم اقوام کے خلاف زبان پر لاتے ہیں وہ سب فرعی باتیں اور جھوٹ پر مبنی بہانے ہیں؛ واضح ہوچکا کہ مسئلے کی بنیاد کیا ہے۔اس قضيئے کا دوسرا پہلو مسلمانوں کی یہ عظیم لہر اور قیام ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ آج دنیائے اسلام میں کیا ہورہا ہے؛ مسلم اقوام کس جوش و خروش کا مظاہری کررہی ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت نے اس فلم کو نہيں دیکھا بلکہ انہيں معلوم ہوا کہ اس طرح کی اہانت ہوئی ہے، آپ دیکھیں کہ دنیائے اسلام میں کس طرح کا ہیجان اور جوش و جذبہ ہے۔ مسلم ممالک، مسلم قومیں، کسی کی اپیل اور درخواست کے بغیر، کسی کی ترغیب و تحریک کے بغیر، نکلتے ہیں، آتے ہیں، اپنی پورے وجود کے ساتھ، تہہ قلب سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں؛ یہ بہت قابل قدر ہے۔ عجیب منظر ہوا۔ عرب ممالک میں، ان ممالک میں جہاں بڑے بڑے بت، سرکش مستکبرین اور طاغوت بیٹھے ہیں اور اسلام اور امت اسلامی کے خلاف مسلسل منصوبہ بندیاں کررہے ہیں، یورپ میں، امریکہ میں اور مختلف غیر مسلم ممالک میں، مسلمان اور کبھی حتی غیرمسلم آئے میدان کے بیچ، یہ بھی اس مسئلے ایک پہلو ہے۔ یہ بہت ہی اہم قضیہ ہے اس نے امت کو متحرک کرنے کے لئے عالم اسلام کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ہم نے قبل ازیں غرض کیا کہ مسلمانوں کا ملتقا (نقطۂ التقا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود مبارک ہے، یعنی جہاں تمام مسلمان، مختلف فرقوں، مختلف اعتقادی مکاتب، مذاہب اور عقائد ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور سب ایک ہی حقیقت اقرار و اعتراف کرتے ہیں، وہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود مبارک ہے۔ یہاں مزيد شیعہ، سنی اور مختلف فرقے، معتدل، متوسط اور انتہاپسند، سب بے معنی ہیں۔ اس مرکز اور اس محور کی نسبت، الہی اور اسلامی عقائد کے اس قطب کی نسبت، سب جان و دل سے، متحد اور متفق ہیں۔ آج اس حقیقت کا دنیا میں مظاہرہ ہورہا ہے؛ اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہیں سے ہی حج میں "مشرکین سے برائت" (برائۃمن المشرکین) با معنی ہوجاتی ہے۔ حج وہ مقام و موقع ہے جہاں پوری دنیا سے مسلمان آکر اجتماع کرتے ہیں۔ مختلف تہذیبیں، ثقافتیں، مختلف رنگ اور نسلیں، مختلف زبانیں، لغتوں کے مختلف اصناف اور مختلف لہجے اور ـ دعائے عرفہ میں سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق ـ سب وہاں مجتمع اور متفق ہیں۔ یہ وحدت، جو حج کے عظیم اجتماعات میں اپنی ظاہری اور جسمانی صورت دکھاتی ہے، بامعنی و مقصد ہونی چاہئے؛ [حتی کہ] سب محسوس کریں کہ وہ سب مل کر ایک ہی خطرے کا سامنا کررہے ہیں، انہیں ایک مشترکہ دشمن کا سامنا ہے؛ سب اپنے وجود کی گہرائیوں سے، اس دشمن سے برائت و بیزاری کا اعلان و اظہار کریں، حج کے دوران مشرکین سے برائت یہی ظاہر ہوجاتی ہے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود مقدس ایسی کسی شیئے کا نام نہيں ہے جس کی ہم جیسے لوگ اپنی قاصر و ناقص زبانوں اور عاجز فہم و ادراک سے، تصویر کشی کرسکیں؛ ہم تو بس صرف عشق و محبت کا اظہار کرتے ہیں؛ ہم صرف اخلاص اور خاکساری کا اظہار کرتے ہیں؛ اس سے زيادہ ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ ہیں جن کے بارے میں خداوند متعال نے فرمایا: "انّ اللّه و ملائکته یصلّون على النّبىّ"۔ (1) پروردگار متعال کی ذات آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر درود و سلام بھیجتی ہے؛ اللہ کے فرشتے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں؛ ہم کون ہوتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے مقام کا ادراک کریں اور پہچانیں؟ تا ہم ہم آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے محبت کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے عاشق ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے کلام کے پابند ہیں اور اس پر استقامت کرتے ہیں اور وہ کلام توحید کا کلام ہے۔ یہ ہمارے لئے ایک ثابت اور محفوظ اصول ہونا چاہئے کہ: ہمیں اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے کلام پر ڈٹ جانا چاہئے اور استقامت دکھانی چاہئے؛ اور وہ کلام توحید کا کلام ہے، اسلام کا کلام ہے، قرآن کا کلام ہے۔ حج کو اسی اصول کا مظہر ہونا چاہئے۔ دشمن کی بڑی سازشوں میں سے ایک ـ جو البتہ اس واقعے میں کافی حد تک ناکام ہوگئی، لیکن ہم سب کو خیال رکھنا چاہئے ـ اس عظیم اور متحد و ہمآہنگ میدان میں اختلافات پیدا کرنا ہے۔ ہم جو اسلام کے اصولوں ـ اس کے سب سے زیادہ اہم اور بنیادی اسلامی مسائل میں، سب ایک ہی نقطے پر مرتکز ہیں، وہ (دشمنان اسلام) بعض آراء اور عقائد و اعمال پر اختلاف کے بہانے ہمیں ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کر دینا چاہتے ہیں۔ ہاں! اسلامی مکاتب و مذاہب مختلف قسم کے مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں؛ لیکن ہم کہنا چاہتے ہیں کہ: تمہارے مقابلے میں، کہ اسلام کے دشمن ہو، تمہارے مد مقابل، کہ ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے وجود مقدس کے خلاف اس قسم کے ناروا اقدامات انجام دیتے ہو، ہم سب متفق و متحد ہیں. دین کے دشمن، مستکبرین اور اسلام دشمن محاذ کے منتظمین کو جان لینا چاہئے کہ امت اسلام ان کے مدمقابل متحد و متتفق ہے؛ انہیں مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی سوچ ترک کردینا چاہئے؛ انہیں اب ہمارے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوششوں سے مایوس ہو جانا چاہئے۔ ہمارے مبلغین، ہمارے عوام کا ہر فرد، ہمارے حکام و منظمین، ہمارے مختلف مذاہب کے پیروکاروں، ہمارے اہل تسنن، ہمارے اہل تشیع، ہم سب کی توجہ اس موضوع پر مرکوز ہونی چاہئے؛ ہمیں خیال رکھنا چاہئے؛ دشمن کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ آکر ہمارے درمیان اختلاف انگیزی کرکے ہمیں اپنا غیظ و غضب آپس میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے پر آمادہ کرے اور وہ اپنے آپ کو امت اسلامی کے غیظ و غضب سے دوچارے ہونے کے خطرے سے نجات پائیں؛ یہ بہت بڑي غلطی ہے۔ یہ ایک نکتہ ہے حج کے مسئلے میں اور خاص طور پر اس سال کے حج میں۔ ایک نکتہ اور، جس پر بارہا تاکید ہوئی ہے اور اس کی طرف پھر بھی توجہ دلانے کی ضرورت ہے، یہ ہے کہ اگرچہ حج ـ ایک سیاسی واجب [سیاسی ـ دینی فریضہ] ہے، ایک معاشرتی اور سماجی فریضہ ہے ـ وحدت کا مظہر بھی ہے، مسلمانوں کے اجتماع اور اتحاد کا مظہر ہے، برائت و بیزاری کے اعلان کے لئے ہے ـ ان میں کوئی شک نہيں ہے ـ لیکن روحانی اور معنوی احساس و جذبات سے لبالب مجموعہ بھی ہے؛ یہ پہلو ہرگز فراموش نہیں ہونا چاہئے۔ حج کے مناسک و مراسمات کے آغاز سے، اسی احرام سے